Home
Videos uploaded by user “vitalscience”
funny gags blind man
 
01:26
Views: 2836644 vitalscience
Which of these is not a web browser?
 
02:22
Which of these is not a web browser? A: Firefox B:Opera C:Facebook D:Chrome
Views: 67763 vitalscience
funny Gages Baby
 
01:35
Views: 52042 vitalscience
Fun gags Police Lottery
 
01:31
Views: 2268 vitalscience
Funny gags Karate Kid
 
01:22
Views: 21810 vitalscience
OMG Only Happen in Malaysia
 
01:12
Views: 330142 vitalscience
wali baber ka qatil ka aitraf
 
05:00
ایم کیو ایم کا قاتل شاه رُخ خان ، ولی خان بابر کے قتل کا کهلے عام اعتراف کر رها هے لیکن ایم کیو ایم سے پورے پاکستان میں پوچهنے والا کوئی نہیں کیا اب هم عوام کو خود هی ایم کیو ایم سے انصاف نہیں کرنا چاهیئے ؟؟؟ With Thanks To Terrorist Leaks.Com
Views: 2548 vitalscience
Dengue ka bad abb Kango Virus YA ALLAH hum pher Rehem karna
 
00:39
............. ڈ ینگی کیبعد اب کا نگو وائرس کے خدشات .............. کانگو وائرس کا پورا نام کریمین۔ کانگو ہموریجک فیور (Crimean.Congo Haemorrhagic Fever) ہے، جسے مختصراََ سی سی ایچ ایف کہا جاتا ہے یہ بنیادی طور پر جانوروں کی بیماری Zoonosis ہے، اور یہ زیادہ تر بھیڑ بکریوں کے بالوں میں چھپے ہوئے پسووں میں پایا جاتا ہے، اس پِسو کو ٹِک (tick) بھی کہتے ہیں۔ جب یہ پسو بھیڑ بکری یا انسانوں کا کاٹ لے تو پھر یہ وائرس متحرک ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ یہ وائرس متاثرہ جانور کے خُون کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے، مثلاََ اگر قصاب جانور ذبح کرتے ہوئے احیتاط نہیں کرتا اور اس کے ہاتھ پر کٹ لگ جاتا ہے تو اس طرح متاثرہ جانور کے خُون سے مخصوص وائرس اس کے جسم میں داخل ہو جائے گا۔ اس لیے مویشیوں کے زیادہ قریب رہنے والے افراد جیسے مویشیوں کے بیوپاری، زرعی کارکن، قصاب، جانوروں کے ڈاکٹر اور ان کے وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کا علاج کرنے والے یا ان کے لواحقین جلد اور آسانی سے اس وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ یہ وائرس مریض کے خُون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے۔ عید الاضحیٰ کی آمد میں ڈیڈهه مہینہ باقی هے ہمارے ہاں یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو محلے کے بچے جلوس کی شکل میں گھماتے ہیں اور ویسے بھی کئی لوگ عید قربان سے بہت پہلے جانوروں کو اپنے گھروں میں لے آتے ہیں اور بچے ان کے ساتھ کھیل تماشا کرتے ہوئے ان کے بہت زیادہ قریب آ جاتے ہیں، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بچوں کی قوتِ مدافعت بہت کمزور ہوتی ہے اور ان میں کسی بھی بیماری کے جراثیم بہت جلد سرایت کر جاتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کی آمد اور ایک بار پھر اس وباء کا پھیلنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے میں وہ مویشی شامل ہیں جو دوسرے علاقوں سے بیچنے کے لیے لائے جاتے ہیں۔ کانگو وائرس دُنیا کے جن علاقوں میں پایا گیا ہے ان میں افریقہ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ شامل ہیں۔ ................................ کانگو وائرس کی علامات .............................. کانگو وائرس عموماََ جسم میں داخل ہونے کے بعد 14 دن کے اندر اندر علامات ظاہر کر دیتا ہے، اور عموماََ مریضوں میں جو علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں: 1۔ ابتدا میں معمولی بخار کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ 2۔ عموماََ مریض پٹھوں میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔ 3۔ گردن میں درد اور کھنچاو کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ 4۔ بخار کے ساتھ مریض کو شدید کمر درد کی شکایت ہوتی ہے۔ 5۔ متلی، قے اور گلے کی سوزش بھی نمایاں علامات ہیں۔ 6۔ متلی قے کے بعد مریض کو پیٹ میں شدت کا درد اٹھتا ہے اور دست لگ جاتے ہیں۔ 7۔ مرض کے کچھ دن رہنے کے بعد مریض کا مُوذ بدلنے لگتا ہے اور عموماََ مریض غضب ناک ہو جاتے ہیں۔ 8۔ پیٹ کا درد عموماََ دائیں طرف بالائی حصے میں ہوتا ہے۔ 9۔ مریض کا جگر بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ 10۔ بیماری کے پانچویں دن مریض کا جگر، گردے اور پھیپھڑوں کا فعل متاثر ہونے لگتا ہے۔ 11۔ خُون کا جائزہ لینے سے پلیٹ لیٹس کی تعداد میں کمی آ جاتی ہے اور خُون میں جمنے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔ 12۔ مریض کی جِلد کے مساموں سے خُون رِسنے لگتا ہے خاص کر مسوڑھوں، ناک اور اندرونی اعضاءسے خُون خارج ہونے لگتا ہے۔
Views: 3319 vitalscience
Angry Garbage Man
 
01:20
Views: 3243 vitalscience